Google search engine
صفحہ اولپرائمگرین لینڈ کی خریداری: صدر ٹرمپ کی کوشش، فوائد، مشکلات اور دور...

گرین لینڈ کی خریداری: صدر ٹرمپ کی کوشش، فوائد، مشکلات اور دور رس عالمی اثرات

صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی کوشش عالمی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کے ممکنہ اقتصادی فوائد، جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل اہم ہیں، لیکن ڈنمارک اور مقامی لوگوں کی مخالفت، قانونی چیلنجز اور عالمی سطح پر تنقید نے اس منصوبے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ معاملہ مستقبل کی عالمی طاقتوں کے توازن پر دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ کے حصول میں دلچسپی نیٹو NATO  پر اہم اثرات مرتب کرے گی۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، جو نیٹو کا رکن ہے، اور اس خطے پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو ڈنمارک پر حملہ سمجھا جائے گا، جس پر نیٹو کے چارٹر کے آرٹیکل 5 کا اطلاق ہو گا۔ اس سے نیٹو اتحاد میں بڑے سفارتی بحران پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ رکن ریاستوں کو ڈنمارک کا دفاع کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ اقدام نیٹو کی ہم آہنگی کو بھی کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ یہ امریکہ کے ‘اجتماعی دفاعی عزم’ کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرے گا اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرے گا۔

 

گرین لینڈ تقریبا 20 لاکھ مربع کلومیٹر یعنی 770000 مربع میل کے رقبے پر محیط ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گرین لینڈ یورپ سے زیادہ شمالی امریکہ کے قریب ہے، لیکن یہ روس  کے شمالی حصہ اور شمالی چین تک انتہائی مختصر فضائی راستوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خصوصیت گرین لینڈ کو انٹیلی جنس جمع کرنے اور امریکہ اور کینیڈا کو ممکنہ فوجی جارحیت سے بچانے کے لیے انتہائی مفید بناتی ہے، خاص طور پر جب سے اس خطے کو فوجی جارحیت کے ایک ممکنہ محور کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ اس کے علاوہ، گرین لینڈ میں توانائی کے وسائل، دھاتی ذخائر اور معدنیات کی بھرپور مقدار موجود ہے۔

صدر ٹرمپ کے لیے یہ حقیقت کہ گرین لینڈ میں صرف 55,000 مقامی لوگ (The Greenlandic Inuit or Greenlanders) رہتے ہیں، اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ وہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کو معاشی مراعات پیش کر کے اس خطے کو امریکہ کے زیر انتظام لے آئیں، بالکل اسی طرح جیسے روسی سلطنت نے الاسکا کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا تھا یا نپولین نے فرانسیسی علاقوں کو امریکہ کے حوالے کردیا تھا۔ امریکہ کی تاریخ میں زمین خریدنے یا جنگ کے ذریعے علاقے حاصل کرنے کے واقعات موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ اگر معاوضے کے ذریعے نہیں، تو جنگ کے ذریعے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کیا جا سکتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور ایک عالمی خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔

گرین لینڈ واحد ماڈرن ملک ہے جہاں اکثریت مقامی آبادی (Greenlandic Inuit) پر مشتمل ہے اور یہ ایک قومی ریاست کے طور پر ابھری ہے۔ گرین لینڈ کی عوام کو اس الحاق کے لئے منانا کافی مشکل ہوگا۔ ماضی قریب کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو 1953 کے ڈنمارک کے آئین نے گرین لینڈ کی ایک کالونی کی حیثیت کو ختم کر دیا، اور اسے مکمل طور پر ڈنمارک کی ریاست میں ضم کر دیا۔ 1979 میں گرین لینڈ کے ‘ہوم رول ریفرنڈم’ میں، ڈنمارک نے گرین لینڈ کو ‘ہوم رول’ کے حقوق عطا کئے۔ 2008 میں گرین لینڈ کے خود مختاری کے ریفرنڈم میں، گرین لینڈ کے باشندوں نے خود مختاری ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا، جس نے ڈنمارک کی حکومت سے زیادہ اختیارات مقامی گرین لینڈ کی حکومت کو منتقل کر دیے۔ یہ واحد ملک ہے جس کی اکثریت مقامی لوگوں یا نیٹیوز Greenlanders کی ہے اور وہ اکیسویں صدی میں کامیابی کے ساتھ داخل ہوئی ہے۔ باقی تمام خطے اور قومیں خارجی حملوں کا شکار ہوکر اپنی اصل کھو چکی ہیں یا کم از کم باہر سے آئی ہوئی اکثریت کے رحم وکرم پر جی رہی ہیں۔ گرین لینڈ کی اصلی زبان (Greenlandic) آج بھی بڑے پیمانے پر وہاں بولی جاتی ہے، اور اگرچہ گرین لینڈ کو عیسائیت میں تبدیل کر دیا گیا تھا، لیکن مقامی مذہب آج بھی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ امریکہ کے زیر انتظام جانے کی صورت میں، گرین لینڈ کے لوگ اپنی موجودہ حیثیت کا موازنہ امریکہ کے مقامی باشندوں سے کریں گے، جو تاریخی طور پر کمزور ہی رہے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ صدر ٹرمپ اس مہم کو گرین لینڈ کی عوام کے حقوق کو بڑھانے یا بہتر کرنے کے طور پر نہیں پیش کر رہے ہیں، کیونکہ اس سلسلے میں زیادہ کچھ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ نیز، معاشی فوائد کا بڑا حصہ گرین لینڈ کی عوام تک برابر پہنچنے کے امکانات بھی کم ہیں۔ لہٰذا، گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کا طریقہ کار ایک فوجی قدم ہی ہوسکتا ہے، جو امریکہ کے لیے تو آسان ہوگا، لیکن نیٹو NATO ممالک کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دے گا، کیونکہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی دفاعی ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔ صدر ٹرمپ شاید اس اقدام کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہوں، کیونکہ انہیں لگے گا کہ مغربی یورپی ممالک کوئی ٹھوس کارروائی ہرگز نہیں کریں گے، اس کی وجہ سبھی کو معلوم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ اور فرانس ہی دو ایسے ممالک ہیں جن پر فوجی طور پر امریکہ کو گرین لینڈ سے نکالنے کی ذمہ داری ہوگی، لیکن وہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس صورت میں نیٹو NATO کا خاتمہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ کیوں کہ اگر ممبر ممالک ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے، تو اس کے وجود کا فائدہ ہی کیا ہے۔

صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کر کے اپنی سیاسی میراث کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا گرین لینڈ پر قبضہ کرنا نیٹو NATO کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے؟ دوسری جانب، اس کی وجہ سے امریکہ اپنی باقی ماندہ ساکھ بھی کھو سکتا ہے، جسے 2003 میں عراق پر حملے نے پہلے ہی بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ وہ گرین لینڈ کو براہ راست کنٹرول کیے بغیر اس کے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا طریقہ تلاش کریں۔ براہ راست حملہ صرف چین اور روس کو مزید جارحانہ اقدامات کرنے کی ترغیب دے گا۔ جب ممالک دوسرے خود مختار ملکوں پر قبضہ کرنے کی کھلی دھمکیاں دینے لگتے ہیں، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ عالمی نظم کو ختم کر کے اس کی جگہ کسی نئے نظام کے بغیر چھوڑ دینا، آنے والی دہائیوں میں دنیا کو ایک بڑے تنازعے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

 

احمد صهيب ندوي
[Email: Contact@Laahoot.com]

لاہوت اردو ڈائجسٹ
سوشل میڈیا پر ہم سے جڑیں:
https://www.facebook.com/LaahootUrdu

https://x.com/LaaHoot
https://www.youtube.com/@LaahootTV

احمد صہیب صدیقی ندوی
احمد صہیب صدیقی ندوی
کالم نگار اور مترجم - نئی دہلی، ہندوستان
متعلقہ مضامین

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے

حالیہ کمنٹس