-
اسلامی دنیا نے آٹھویں سے تیرہویں صدی کے درمیان علم ودانش، اقتصادی ترقی اور ثقافتی پختگی کے نئے عروج کا مشاہدہ کیا جو تاریخ میں اسلامی سنہری دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
-
یورپی نشاۃ ثانیہ جدید سائنس کی ترقی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ تاہم، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی فکری پیشرفتوں نے خود نشاۃ ثانیہ کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ اسلامی سائنس اور فلسفہ کے تعاون کے بغیر، نشاۃ ثانیہ، اور نتیجتاً، جدید سائنس، شاید اس شکل میں وجود پذیر نہ ہوتی۔
-
یہ سنہری دور 1258ء میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں کے تباہ کن حملوں کی وجہ سے اچانک ختم ہو گیا۔
منگولوں کے حملے سے قبل مسلم دنیا میں فکری زندگی کا ایک عروج دیکھنے میں آیا۔ اس دور میں مسلمانوں نے علم وفن کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارنامے انجام دئے اور دنیا کو نئی نئی ایجادات اور نظریات سے روشناس کرایا۔ فلسفہ، ریاضی، فلکیات، طب، اور دیگر کئی شعبوں میں مسلمانوں نے غیر معمولی پیشرفت کی اور دنیا بھر کے دانشوروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ بغداد، قرطبہ اور بخاری جیسے شہروں کو علم و دانش کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا جہاں دنیا بھر سے علماء و فضلاء جمع ہوتے تھے۔ اس دور میں اسلامی تہذیب نے دنیا کے مختلف گوشوں میں اپنے اثرات مرتب کیے اور انسانیت کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کیا۔
اس دور کے عظیم علماء و فلسفیوں میں ابن سینا، جنہیں مغرب میں اوی سینا کے نام سے جانا جاتا ہے، کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ابن سینا نے طب اور فلسفہ دونوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنی کتاب "القانون فی الطب” کے ذریعے طب کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ابن سینا ایک جامع العلوم شخصیت تھے جنہوں نے فلسفہ، منطق، ریاضی اور دیگر کئی علوم پر عبور حاصل کیا تھا۔
اسی طرح، محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے بھی علم ریاضی میں عظیم کام انجام دیے۔ ان کی کتاب "كتاب المختصر في حساب الجبر والمقابلة " نے الجبرا کے تصور کو جنم دیا اور اس سائنس کو جدید شکل دی۔ الخوارزمی کو الجبرا کا بانی کہا جاتا ہے۔ ان کی کتابوں کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا گیا اور انہوں نے یورپ میں ریاضی کے میدان میں انقلاب برپا کیا۔
اسی دور میں البیرونی جیسے نامور ستارہ شناس اور مورخ نے اپنی تحقیقات سے علم فلکیات کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ ابنِ ہیثم نے بصریات کے میدان میں گراں قدر کام کیا اور ان کی تحقیقات نے بعد کے سائنسدانوں کو متاثر کیا۔
اس دور میں صرف فلکیات اور بصریات ہی نہیں بلکہ ریاضی، طب، فلسفہ اور ادب جیسے مختلف شعبوں میں بھی حیران کن ترقی ہوئی۔ یونانی فلسفہ کا عربی میں ترجمہ ہوا اور اس سے اسلامی فلسفے کو ایک نیا موڑ ملا۔ طبی علوم میں بھی نئی دریافتیں ہوئیں اور طبی کتابیں لکھی گئیں۔ اس دور میں شعر وادب نے بھی عروج پایا اور بہت سے نامور شعراء اور ادیب پیدا ہوئے۔
سن 1217ء سے 1305ء تک مسلم دنیا پر منگولوں کے حملوں نے اسلامی دنیا کی فکری زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔ اگرچہ ان حملوں نے اسلامی تہذیب کو مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کیا، لیکن انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ بغداد جیسے بڑے شہروں کی تباہی کے ساتھ ساتھ "دار الحکمت” جیسے مشہور کتاب خانوں کا بھی صفایا کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں کتابیں، خطوط اور ناقابل تلافی علم ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئے۔
اس کے علاوہ، ان حملوں کے دوران بے شمار علماء اور دانشور شہید ہوئے، جس سے انسانی سرمایہ کو شدید نقصان پہنچا اور فکری روایات کی مسلسل ترقی میں خلل پڑا۔ مدارس سمیت تعلیمی اداروں کی تباہی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا، جس سے علم کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور آنے والی نسلوں کی تربیت میں شدید خلل پڑا۔
منگولوں کا تباہ کن حملہ صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا، بلکہ ایک انتقام کا نتیجہ تھا۔ اس کی جڑیں خوارزم شاہی سلطنت اور منگول سلطنت کے درمیان کشیدگی میں پائی جاتی ہیں۔ خوارزم شاہ کے حکمرانوں نے منگول سفیران کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں قتل کر دیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے منگول قافلوں پر حملہ کر کے ان کا مال لوٹ لیا۔ یہ جارحانہ اقدامات چنگیز خان کے لیے انتہائی ناقابل برداشت تھے۔ ایک عظیم حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے وقار اور عزت کو بھی بہت اہمیت دیتا تھا۔ خوارزم شاہ کے حکمرانوں کی طرف سے کی گئی گستاخی نے اس کے غضب کو بھڑکا دیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خوارزم شاہی سلطنت کو سزا دے گا۔
چنگیز خان نے اپنی فوجوں کو خوارزم شاہی سلطنت پر حملے کا حکم دیا۔ منگول فوجیں اپنی وحشیانہ طاقت اور بے رحمی کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے خوارزم شاہی سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا اور اس کے شہروں کو آگ لگا دی۔
اگرچہ سیاسی اتحاد اور اقتصادی ترقی بھی منگولوں کی فتوحات میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں، لیکن خوارزم شاہی واقعہ ہی منگولوں کے وسیع پیمانے پر حملوں کا اصل محرک بنا۔ خوارزم شاہ کے ظالمانہ رویے نے چنگیز خان کو انتقام لینے پر بھڑکا دیا۔
منگولوں کے حملے کے بعد مسلم معاشروں میں فکری وثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ بغداد جیسے علمی مراکز کی تباہی سے اسلامی دنیا کو ایک بڑا جھٹکا لگا۔ کتب خانے اور مدارس تباہ ہو گئے، اور سائنسی تحقیق کے ادارے تقریباً غیر فعال ہو گئے۔ نتیجتاً، اسلامی دنیا میں علم ودانش کی روشنی ماند پڑ گئی اور علمی ترقی کا سفر رک سا گیا۔
اس تباہی کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غلامی کی زندگی پر مجبور ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کو زبردستی دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیا گیا اور انہیں کھیتوں میں کام کرنے یا دستکاری کے کاموں میں لگایا گیا۔ اس طرح، ایک مہذب اور تعلیم یافتہ قوم کو غلام بنا دیا گیا اور اس کی معاشی حالت بہت ہی خراب ہو گئی۔
اسلامی دنیا کا معاشی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ تجارت اور صنعت دونوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بہت سے شہروں اور قصبوں کی آبادی کم ہو گئی اور وہ اپنی سابقہ رونق کھو بیٹھے۔ اس کے نتیجے میں، مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غربت اور افلاس کا شکار ہو گیا اور انہیں چھوٹے موٹے کاروبار اور مزدوری کے کاموں تک محدود کر دیا گیا۔
اگرچہ بعد ازاں عثمانی سلطنت نے اسلامی پرچم کو بلند کیا اور اس کی عظمت کو کچھ حد تک بحال کیا، تاہم وہ سنہرا دور جو بغداد کے سقوط سے پہلے تھا، ہمیشہ کے لیے گزر چکا تھا۔ منگولوں کے وحشیانہ حملوں نے اسلامی تہذیب کے قلب پر ایسا زخم لگایا تھا کہ وہ کبھی پوری طرح سے اُبھر نہ سکی۔
آئیے ان عظیم شہروں کے ملبے پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں منگولوں کے وحشیانہ حملوں نے تہس نہس کر دیا اور جن کی تباہی نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ فہرست مکمل نہیں ہے، لیکن یہ ان شہروں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے جن کی رونق ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں درج ہو گئی۔
بغداد 1258: علم و دانش کا نگینہ
1258ء سے قبل بغداد، دجلہ کے کنارے بسا ایک سرسبز وشاداب شہر تھا جو عباسی خلافت کا مرکز تھا۔ یہ شہر صرف ایک سیاسی دارالحکومت ہی نہیں تھا بلکہ اسلامی تہذیب کے عہدِ زریں کا بھی ایک روشن مینار تھا۔ بغداد علم وادب کا ایک ایسا معتبر مرکز تھا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ دنیا بھر سے علماء و دانشمند یہاں جمع ہوتے تھے اور اپنی تحقیق و جستجو میں مصروف رہتے تھے۔
بغداد صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ علم و دانش کا ایک تابندہ مرکز تھا۔ یہاں قائم اعلیٰ تعلیم کے ادارے، خاص طور پر "نظامیہ” جیسے جامعات، اپنے عہد کے بہترین تعلیمی مراکز میں شمار ہوتے تھے۔ یہ جامعہ سلجوقی وزیر نظام الملک کی دوراندیشی کا نتیجہ تھے جنہوں نے مختلف علوم کی تعلیم وتحقیق کے لیے ایک جامع نظام قائم کیا تھا۔
ان اداروں میں طلبہ کو صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ طب، فلکیات، فلسفہ، ریاضی اور دیگر کئی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہاں دنیا بھر سے علماء و دانشور جمع ہوتے تھے اور نئے نظریات اور دریافتیں سامنے آتی تھیں۔ بغداد کی سرزمین پر علم کا چراغ روشن تھا اور اس کی شعاعیں دور دور تک پھیل رہی تھیں۔
چند نمایاں شخصیات:
بغداد کی سرزمین پر متعدد عظیم ذہنوں نے جنم لیا اور اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو روشن کیا۔ ان میں سے چند نمایاں شخصیات یہ ہیں:
-
الخوارزمی: ایک ایسا نابغہ جس نے ریاضی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔ انہوں نے الجبرا کی بنیاد رکھی اور اس طرح جدید ریاضی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تصانیف آج بھی ریاضی دانوں کے لیے ایک اہم حوالہ ہیں۔
-
الکندی: ایک فلسفی اور سائنسدان جنہوں نے فلسفہ، منطق، ماورائے طبیعیات اور طب پر گہری نظر رکھی۔ انہوں نے یونانی فلسفے کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس طرح اسلامی فلسفے کی بنیاد رکھی۔
-
الرازی: ایک طبیب اور کیمیاء دان جنہوں نے طب اور کیمیاء کے میدان میں نئی راہیں کھولی۔ انہوں نے کئی نئی دوائیں دریافت کیں اور طبیب کے طور پر بھی بہت مشہور ہوئے۔
دوسری عظیم شخصیات میں شامل ہیں، ابن رشد (1126-1198)، ابن سینا (980-1037)، غزالی (1058-1111)، محمد بن ادریس (1099-1169)، اسماعیل الجزری (1136-1206)، عمر خیام (1048-1131)، وغیرہ۔
یہ صرف چند نام ہیں، اس فہرست میں اور بھی بہت سے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ان تمام عظیم شخصیات نے مل کر بغداد کو ایک عالمی مرکز تعلیم وتربیت بنا دیا تھا۔ یہاں مختلف زبانوں کے کتب خانے قائم تھے اور ہر قسم کے علم کی تلاش کرنے والوں کے لیے یہ ایک جنت کا ٹکڑا تھا۔
حلب 1260:
1260ء سے قبل حلب کا شہر علم ودانش کا ایک روشن چراغ تھا۔ یہاں کے باشندے علم و ادب کے شیدائی تھے اور شہر میں کثیر تعداد میں کتاب خانے اور کالج موجود تھے۔ یہ کتاب خانے علم کے خزانے تھے جہاں دنیا کی مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتابیں موجود تھیں۔ حلب کے علماء ودانشمند اپنی تحقیق وجستجو میں مصروف رہتے تھے اور نئے نئے نظریات اور افکار پیش کرتے تھے۔ اس شہر کی فکری روایت صدیوں پر محیط تھی اور اس نے اسلامی دنیا میں علم ودانش کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
علمی اہمیت:
حلب، صدیوں سے اسلامی دنیا کا ایک اہم علمی وثقافتی مرکز رہا ہے۔ اس شہر نے پورے خطے سے علماء، فضلاء اور دانشوروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ حلب میں متعدد نامور تعلیمی ادارے قائم تھے جن میں "نظامیہ حلب” ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔ سلجوق وزیر نظام الملک کی جانب سے قائم کردہ یہ مدرسہ اسلامی دنیا کا ایک معتبر مرکز تعلیم تھا۔
نظامیہ حلب میں اسلامی شریعت، فقہ، اصول دین، فلسفہ، طب، فلکیات اور دیگر کئی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس مدرسے سے ہزاروں عالم وفاضل فارغ التحصیل ہوئے جنہوں نے اسلامی دنیا میں علم و دانش کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ حلب کے علماء نے مختلف علوم میں نئی نئی دریافتیں کیں اور اسلامی تہذیب کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔
حلب نہ صرف ایک علمی مرکز تھا بلکہ یہ فنون لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی گہوارہ تھا۔ شہر میں متعدد کتب خانے، مساجد اور خانقاہیں تھیں جہاں علماء ودانشور جمع ہو کر علم و دانش کے تبادلے میں مشغول رہتے تھے۔ حلب کی یہ علمی وثقافتی سرگرمیاں صدیوں تک جاری رہیں اور اس نے اسلامی دنیا میں ایک روشن مثال قائم کی۔
حلب کی اموی مسجد بھی ایک اہم تعلیمی مرکز تھی۔ یہاں علماء و مفکرین جمع ہو کر مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ شہر میں متمول سرپرستوں اور علماء کے ذاتی کتاب خانے بھی موجود تھے، جن میں نایاب کتابیں اور دستاویزات محفوظ تھیں۔
عظیم شخصیات:
حلب نے متعدد جلیل القدر علماء و مفکرین کو جنم دیا جنہوں نے علم کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ شہر سے وابستہ بعض معروف علماء میں شامل ہیں:
- ابن تیمیہ (1263-1328، دمشق): ایک نامور محدث، مفسر اور فقیہ جنہوں نے حنبلی فقہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
- ابن قیم الجوزیہ (1292-1350، دمشق): ابن تیمیہ کے شاگرد، جنہیں مختلف اسلامی علوم، بشمول فقہ، تصوف اور کلام، پر مہارت حاصل تھی اور انہوں نے بے شمار کتابیں تصنیف کیں۔
دوسری عظیم شخصیات میں الفارابی (دمشق 950-51)، جمال الدين القفطي (وفات 1248) اور کمال الدین ابن العدیم (وفات 1262) شامل ہیں۔ ان علماء اور دیگر کئی نامور شخصیات نے حلب کے فکری و ثقافتی ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا اور اسے اسلامی علم و ادب کا ایک اہم مرکز بنایا۔
بخارا 1220: مغلوں کی تباہی سے قبل اسلامی دنیا کا ایک جوہر نایاب
منگولوں کے تباہ کن حملوں سے قبل، بخارا اسلامی دنیا کا ایک روشن مینار تھا۔ یہ شہر اپنی فکری چمک سے بغداد کو بھی پیچھے چھوڑ چکا تھا اور علم و دانش کے ایک لاثانی مرکز کے طور پر دنیا میں شہرت رکھتا تھا۔ موجودہ ازبکستان میں واقع، بخارا تعلیمی اداروں کے ایک وسیع جال، علم سے لبریز کتب خانوں اور روشن ضمیر علماء کا ایک گہوارہ تھا۔ یہاں کے مدارس میں دنیا بھر سے طلبہ آتے تھے تاکہ علم و حکمت کی دولت سے مالا مال ہوں۔ بخارا کے علماء نے فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور طب سمیت مختلف علوم میں اہم شراکتیں کیں اور اسلامی تہذیب کے ارتقاء میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔
علمی اہمیت:
سلک روڈ (شاہراہ ریشم) پر واقع ہونے کی بدولت بخارا نہ صرف ایک اہم تجارتی مرکز تھا بلکہ ایک عالمی ثقافتی سنگم بھی تھا۔ یہاں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے اور اپنے ساتھ نئے خیالات اور نظریات لاتے تھے۔ اس ثقافتی آمیزے نے بخارا میں ایک ایسا متحرک فکری ماحول پیدا کیا جو اسلامی دنیا میں علم ودانش کا ایک روشن مینار بن گیا۔
بخارا کے مدارس، جو اپنے سخت گیر نصاب تعلیم کے لیے مشہور تھے، اسلامی علوم پر گہرائی سے مطالعے کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتے تھے۔ یہاں طلباء اسلامی قانون، فقہ، تفسیر، حدیث، کلام، فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور طب جیسی مختلف شاخوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ بخارا کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ دنیا کے مختلف گوشوں سے آتے تھے۔ ان مدارس میں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ یونانی فلسفے اور دیگر غیر اسلامی علوم کا مطالعہ بھی کیا جاتا تھا۔
بخارا کے علماء و فضلاء نے اسلامی تہذیب کے ارتقاء میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح کی، اسلامی قانون کو مدون کیا اور فلسفہ وکلام میں نئی نئی باتیں پیش کیں۔ بخارا کے علماء نے اسلامی دنیا میں علم ودانش کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی تصانیف وتالیفات کے ذریعے اسلامی علم ودانش کو دنیا کے دیگر حصوں میں پہنچایا۔
بخارا: علم کا قلعہ، کتابوں کا شہر
بخارا کو صرف ایک شہر نہیں، بلکہ علم کا ایک قلعہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ یہ شہر کتابوں کا ایک ایسا سمندر تھا جس میں ہر قطرہ علم کا موتی تھا۔ یہاں متعدد کتب خانے تھے۔ ان کتب خانوں میں خطوطِ دستِ نویس اور کتابوں کا ایک ایسا بیش بہا خزانہ موجود تھا کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
ان میں سب سے مشہور میر عرب مدرسہ کا کتب خانہ تھا۔ یہ کتب خانہ اسلامی دنیا میں علم ودانش کا ایک عظیم مرکز تھا۔ اس میں فلکیات، طب، ریاضی اور ادب سمیت مختلف علوم پر لکھی گئی کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود تھا۔ اس کتب خانے میں موجود کتابیں صرف کاغذ اور سیاہی سے لکھے ہوئے الفاظ نہیں تھیں، بلکہ یہ انسانی فہم و دانش کا ایک ایسا خزانہ تھیں جس نے انسانیت کو آگے بڑھنے میں مدد کی۔
یہ کتب خانے صرف کتابوں کا گودام نہیں تھے بلکہ یہ علم کے اہم ذخائر کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہ اسلامی دنیا کی فکری میراث کو محفوظ رکھتے تھے اور علماء کو معلومات کے وسیع خزانے تک رسائی فراہم کرتے تھے۔ یہاں علماء، دانشور اور طلبہ دن رات علم حاصل کرنے اور نئی نئی ایجادات کرنے میں مصروف رہتے تھے۔
اہم شخصیات:
ایک ہزار سال پہلے، بخارا اسلامی دنیا کا ایک تابناک ستارہ تھا جس کی روشنی نے بغداد و قاہرہ کو بھی چمکا دیا۔ علم و حکمت کا یہ گہوارہ ریشم کے راستے اور اس سے آگے کے گوشے گوشے سے طلبہ و علماء کو اپنی جانب کھینچتا تھا۔ بخارا کے مدرسوں میں اسلامی سنہری دور کے جواہر جیسے امام بخاری، ابو علی سینا (ابن سینا) اور ان کے استاذ القمری، صدیق الدین محمد عوفی، بہاء الدین نقشبند، اور امیر کلال (شمس الدین) نے علم کی مشعل روشن رکھی۔ حکمرانوں کی سرپرستی اور نایاب کتابوں سے بھری وسیع کتابخانوں نے اس علمی انقلاب کو ہوا دی۔
-
ابو نصر فارابی (وفات دمشق): ایک فلسفی اور جامع العلوم شخصیت جو منطق، ما وراء طبیعیات اور سیاسی فلسفہ پر اپنے کاموں کے لیے مشہور ہیں۔ ارسطو کے کاموں پر ان کے تبصرے اسلامی دنیا میں انتہائی اثر انداز رہے۔
-
ابو ریحان بیرونی (خوارزم): ایک نامور سائنسدان اور جامع العلوم شخصیت جنہوں نے فلکیات، جغرافیہ اور تاریخ میں نمایاں کام کیا۔ ان کی ہندوستانی ثقافت اور تہذیب پر لکھی گئی کتاب آج بھی معلومات کا قیمتی ذخیرہ ہے۔
-
ابن سینا (بشمول ری): ایک جامع العلوم شخصیت جنہوں نے فلسفہ، طب اور سائنس میں نمایاں کام کیا۔
تاہم، یہ سنہری دور زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ 1220ء میں، چنگیز خان کی وحشی فوجوں نے بخارا کا محاصرہ کر لیا۔ اس وحشیانہ حملے میں شہر کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا اور اس کے باشندوں کا قتل عام ہوا۔ شہر کے کتب خانے لوٹ لیے گئے اور اس کے بہت سے علماء قتل ہوگئے یا بکھر گئے، جس سے بخارا زوال کے ایک دور میں داخل ہو گیا۔ یہ حملہ صرف ایک عمارتی تباہی نہیں تھا بلکہ علم ودانش کی ایک عظیم تباہی تھی۔ صدیوں کی محنت سے جمع کی گئی کتابیں اور دستاویزات خاکستر ہو گئیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عظیم تہذیب کا ایک اہم حصہ بھی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گیا۔

سمرقند 1220:
سمرقند، سلک روڈ کے قدیم راستے پر واقع، صرف ایک شہر ہی نہیں تھا بلکہ علم، تجارت اور تہذیب کا ایک روشن مینار تھا۔ یہ شہر ہزاروں سال سے انسانیت کی تاریخ کا گواہ رہا ہے اور اس کی تہذیبی وثقافتی اہمیت کا اندازہ اس کے شاندار ماضی سے لگایا جا سکتا ہے۔
سمرقند کو علم کا گہوارہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہاں علم کے پیاسے لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ شہر کے کتب خانے علم کے خزانے تھے۔ اُلُغ بیگ آبزرویٹری لائبریری اس کا ایک شاہکار مثال تھی۔ یہاں فلکیات سے متعلق نایاب کتابیں اور آلات موجود تھے۔ یہ صرف ایک کتب خانہ نہیں تھا بلکہ یہ علم کا ایک مرکز تھا جہاں عالموں اور دانشوروں کا ایک گروہ جمع ہوتا تھا۔
سمرقند میں تعلیم کا معیار بہت بلند تھا۔ شہر میں متعدد مدارس قائم تھے جہاں طلباء کو مختلف علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہاں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس، فلسفہ اور طب کی تعلیم پر بھی زور دیا جاتا تھا۔ سمرقند کے مدارس نے نہ صرف وسط ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا میں علم ودانش کی شمع روشن رکھی۔
سمرقند سلک روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا۔ یہاں دنیا کے مختلف گوشوں سے تاجر آتے تھے اور اپنی اشیاء کا تبادلہ کرتے تھے۔ سمرقند میں مختلف ثقافتوں کا امتزاج دیکھنے کو ملتا تھا۔
سمرقند ہمیشہ سے ہی علم ودانش کا گہوارہ رہا ہے۔ اس شہر سے وابستہ کئی نامور علماء ودانشوروں نے دنیا کو اپنی علمی خدمات سے نوازا۔ ان میں سے چند نمایاں شخصیات یہ ہیں:
- اُلُغ بیگ: تیموری شہزادہ اور ایک نامور ستارہ شناس، ریاضی دان اور مورخ تھا۔ انہوں نے سمرقند میں "اُلُغ بیگ آبزرویٹری” کی بنیاد رکھی، جس نے ستارہ شناسی کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔
- ابو ریحان البیرونی (خوارزم): ایک جامع العلوم شخصیت تھے جنہوں نے ستارہ شناسی، جغرافیہ اور تاریخ سمیت مختلف شعبوں میں کمال حاصل کیا۔
- ابو منصور ماتریدی: ایک نامور اسلامی مفکر تھے جنہوں نے ماتریدیہ فلسفہ کی بنیاد رکھی، جو سنی اسلام میں ایک اہم مذہبی وفکری روایت ہے اور آج بھی اسلامی فکر کو متاثر کر رہی ہے۔
ان علماء واداروں نے سمرقند کو علم و دانش کے ایک روشن چراغ کے طور پر تیار کیا، جس نے پوری اسلامی دنیا سے علماء وطلباء کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ لیکن سمرقند کا یہ غنی فکری ورثہ منگول حملوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بے شمار کتب خانے تباہ ہوگئے، بہت سے علماء شہید ہوگئے اور قیمتی علمی ذخائر بکھر گئے۔

ہرات: علم و ادب کا ایک روشن مینار (1221ء)
موجودہ مغربی افغانستان میں واقع ہرات، اسلامی دنیا میں علم و ادب کا ایک تابناک ستارہ تھا۔ منگول حملوں سے قبل، یہ شہر ایک عظیم فکری روایت کا گہوارہ تھا جہاں علم ودانش کی شمع ہمیشہ روشن رہتی تھی۔ ہرات نہ صرف اپنے شاندار ماضی بلکہ اپنی علمی وثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
علمی اہمیت:
ہرات کا سلک روڈ سمیت اہم تجارتی راستوں پر واقع ہونا اسے ایک عظیم شہر بنا دیتا ہے۔ یہاں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے اور اپنے ساتھ نئے خیالات اور نظریات لاتے تھے۔ اس سے ہرات میں علمی تبادلے کو فروغ ملا اور یہاں ایک پُر امن ماحول پیدا ہوا جہاں علماء اور دانشور آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے۔
تعلیمی ادارے:
شہر میں متعدد نامور تعلیمی ادارے موجود تھے، جن میں نظامیہ ہرات ایک نمایاں مدرسہ تھا جو پورے خطے سے علماء کو اپنی جانب متوجہ کرتا تھا۔ ان اداروں میں مختلف علوم، جیسے کہ فقہ، طب، فلکیات، فلسفہ، اور ادبیات، کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہاں کے طلبہ نہ صرف اسلامی علوم بلکہ یونانی فلسفہ اور دیگر غیر اسلامی علوم کی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔
کتب خانے:
ہرات میں کتب خانوں کا ایک وسیع جال موجود تھا، جن میں سے کچھ مدرسوں یا مساجد سے وابستہ تھے۔ ان کتب خانوں میں مختلف موضوعات پر مبنی کتابوں اور خطوط کا ایک وسیع مجموعہ موجود تھا، جن میں اسلامی علوم، ادب، تاریخ اور فلسفہ شامل تھے۔ یہ کتب خانے نہ صرف علم کے ذخیرے کے طور پر کام کرتے تھے بلکہ یہاں علماء اور دانشور جمع ہو کر بحث و مباحثہ کرتے تھے اور نئے خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔
منگول حملوں کا اثر:
13ویں صدی میں منگول حملوں نے ہرات پر تباہ کن اثرات مرتب کیے، جس کے نتیجے میں شہر کی بیشتر عمارتیں، بشمول کتاب خانے اور مدارس، تباہ ہو گئے۔ شہر کی فکری زندگی متاثر ہوئی اور بہت سے علماء مارے گئے یا بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اس سے ہرات کی علمی و ثقافتی ترقی میں ایک بڑا وقفہ پیدا ہو گیا۔
دیگر اہم شہر، جہاں ہزاروں علماء ومحققین سکونت پذیر تھے اور لاکھوں کتابیں ودستاویزات محفوظ تھیں، منگولوں نے مٹا کر رکھ دیا:
1220م عشق آباد، 1252م أستراخان، 1240م حلب، 1238م اردبیل، 1232م آمل، 1228م أرداهان، 1258م بغداد، 1232م بخارى، 1256م باكو، 1221م باميان، 1230م بيلجيك، 1243م داشونويز Dashonwiz،1237 أرزنجان، 1221م هرات، 1223م أصفهان، 1234م إزميت، 1222م جلال آباد، 1242م قونية، 1221م كابول، 1221م قندهار، 1230م قيصرية، 1228م ميانه، 1219م ميرف، 1237م موصل، 1220م نيسابور، 1235م أوش، 1230م قزوين، 1225م رشت، 1232م سمرقند، 1235م سامراء، 1235م سوخومي، 1234م سنندج، 1234م سيواس، 1223م طهران، 1221م تبريز، 1224تبليسي، 1229م تركمان آباد، 1227م أورغانتش، 1227م أورميا، 1230م أوساك

سنہری دور کا خاتمہ:
افسوس اس دور کے خاتمے پر جس نے انسانیت کو معرفت کی بلند چوٹیوں تک پہنچایا تھا!
دنیا کی تہذیبوں کا فخر، اسلام کا سنہری دور، علم وحکمت کا ایک چمکتا ہوا ستارہ۔ منگولوں کے وحشی حملوں نے علم ودانش کے اس چمکدار چراغ کو ہمیشہ کے لیے بجھا دیا، یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے تاریخ کے صفحات کو سیاہ کر دیا۔
اے زمانے، تو اس دور کی یادوں کو تاریخ کے اوراق سے نہیں مٹا سکتا۔ جب تک دل میں علم کا شوق زندہ ہے، علم کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔
علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی قیمتی کتاب "الکامل فی التاریخ” میں ان واقعات کا ذکر کرنے سے پہلے فرماتے ہیں:
کیا مسلمانوں اور اسلام کا ماتم کرنا اتنا آسان ہے؟ جو لوگ ان واقعات کے عینی شاہد تھے، انہیں لگا کہ یہ دنیا کے اختتام کا آغاز ہے، یہ قیامت کی سب سے بڑی نشانیاں ہیں، زمین اب تباہ ہونے والی ہے اور قیامت کا دن شروع ہونے والا ہے۔ انہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہ امت ان واقعات کے بعد بھی زندہ رہے گی۔
وہ فرماتے ہیں: کون ہے جو مسلمانوں اور اسلام کا مرثیہ پڑھنا آسان کام سمجھتا ہے؟ اور کون اسے ذکر کرنے میں راحت محسوس کرتا ہے؟ کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا اور کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا اور بھلا دیا جاتا۔
صهيب ندوي
[Email: Contact@Laahoot.com]
لاہوت اردو ڈائجسٹ
سوشل میڈیا پر ہم سے جڑیں:
https://www.facebook.com/LaahootUrdu